Noor-e-Marfat

Noor e Marfat Issue 52

نور معرفت

شمارہ 52: اپریل تا جون 2021ء

Noor-e-Marfat 52

رکنیت حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مجلہ نور معرفت کے پیش نظر شمارے کا پہلا مقالہ “تفسیر ِقرآن کے لئے درکار علوم اور مفسِّر کی شرائط ” کے عنوان سے اِس سوال کا جواب ڈھونڈتا ہے کہ ایک مفسّر کےلئے کن علوم و فنون کا ماہر اور کن خصوصیات وفضائل کا حامل ہونا ضروری ہے؟ اس شمارے کا دوسرا مقالہ حدیثِ معصومین علیہم السلام کی صحت و اعتبار کا معیار طے کرنے کے حوالے سےسن 150 ہجری سے 250ہجری کے درمیان اصحاب ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی اُس علمی کاوش کا تحلیلی جائزہ پیش کرتا ہے جس میں انہوں نے ائمہ کی طرف منسوب احادیث کے نقد کے معیار قائم کیے۔ تیسرا مقالہ ایک متفاوت دینی سیاسی نظام یعنی “ولایتِ فقیہ” سے متعارف کرواتا اور اس کا “تھیوکریسی” موازنہ پیش کرتا ہے۔ چوتھے مقالے میں اسلام اور مروجہ پاکستانی قوانین کے تناظر میں معاشرتی سزاوں کی قانونی حیثیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔پانچویں مقالے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں انسان کی نفسیاتی مشکلات کے اسباب وعوامل کا جائزہ لیتے ہوئے اِن مشکلات اور بیماریوں کے سدّباب کے حوالے سے دینی تعلیمات کو اجاگر کیا ہے۔ چھٹے مقالہ میں حافظؔ اور اقبالؔ کے مشترکات، اقبالؔ پر حافظؔ کی تاثیر اور اقبالؔ کے مختصات بیان کیے گئے ہیں۔ ساتویں مقالے میں سید وحید الحسن ہاشمی کی نعت گوئی کا اسلوب متعارف کروایا گیا ہے۔ اس شمارے کے آٹھویں مقالے میں ” نہج البلاغہ” کے اردو ترجمہ بقلم علامہ مفتی جعفر حسینؒ کی خوبیوں اور موجودہ دور کے قاری کو اس میں درپیش دشواریوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اور نویں مقالے میں آپ علیہ السلام کے فرمودات کی روشنی میں اقتصادیات پر تہذیبی اقدار اور روّیوں کی تاثیر کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ علمی، تحقیقی سہ ماہی نور معرفت کا یہ شمارہ بھی سابقہ شماروں کی طرح عالمِ اسلام کی دینی، سماجی مشکلات کے حلّ کے عملی اقدامات تجویز کرتے ہوئے علمی تحقیقی حلقوں میں پذیرائی پائے گا۔ ان شاء اللہ!

Noor e Marfat Issue 51

نور معرفت

شمارہ 51: جنوری تا مارچ 2021ء

Noor-e-Marfat 51

رکنیت حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

توحید، دین اسلام کی اساس ہے۔ توحید کی معرفت کی کوئی انتہاء نہیں۔اس موضوع پر مطالعہ کبھی مکمل نہیں ہو سکتا۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ہرموضوع سے پہلے، توحید ہی کے موضوع میں اپنے آپ کو فارغ التحصیل سمجھنے لگتے ہیں اور بسا اوقات اپنے اِس من گھڑت عقیدہ توحید کو بنیاد بنا کر دوسروں پر شرک کے فتوے بھی لگاتے ہیں۔ نیز ہمارے اندر دیگر ادیان و مذاہب پر غلبہ کی فکر بھی حاکم رہتی ہے لیکن اس مہم میں ہم دعوت و تبلیغ کے اساسی اصولوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ایسے میں حضور اکرمﷺ، آپ کے پاک اصحاب رضوان اللہ علیہم اور اہل بیت اطہار علیہم السلام ہی وہ سرچشمے ہیں جو ہمیں توحید کی خالص تعلیمات سے سیراب کرتے اور یہ درس دیتے ہیں کہ ہم دیگر ادیان و مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ کن اصولوں کی روشنی میں مناظرات انجام دیں۔ اس حوالے سے امام رضا علیہ السلام کی تعلیمات راہگشا ہیں۔ سہ ماہی نور معرفت کے موجودہ شمارے میں آپ کی تعلیمات سے استخراج شدہ دو مقالات “اسلام کی توحیدی تعلیمات” اور ” ادیان و مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ مکالمہ و مناظرہ کے اصول” شاملِ اشاعت ہیں جو سالکین سبیل توحید کےلئے معرفت و عرفان کے جام ثابت ہوں گے۔اس شمارے میں “حضرت علی علیہ السلام کی انتظامی پالیسیوں اور اصولوں پر ایک نظر” کے عنوان سے جو مقالہ شاملِ اشاعت ہے وہ اسلامی مملکت داری کی عمدہ پالیسیاں اور اصول بیان کرتا ہے۔
اسی طرح موجودہ شمارے کے چوتھے مقالے میں ” قرآنی مثالی معاشرے کے تحقق میں درپیش فکری و اعتقادی چیلنجز اور مشکلات کا تحقیقی جائزہ” پیش کیا گیا ہے۔ یہ مقالہ ہمیں اُن فکری، عقیدتی انحرافات سے روشناس کرواتا ہے جو ایک قرآنی مثالی معاشرے کے قیام کی راہ میں حائل ہیں۔ اس شمارے کے پانچویں اور چھٹے مقالوں میں ” برصغیر میں اسلام کے ابتدائی آثار” اور ” غزوۂ بنو قریظہ کا تاریخی وتحلیلی جائزہ” کے عنوانات کے تحت دراصل، اسلام کی روح پرور اور مسالمت آمیز تعلیمات کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ مستشرقین اور اسلام دشمنوں کی اِس الزام تراشی کا جواب دیا گیا ہےکہ اسلام خشونت پسندی، دہشت گردی اور تلوار کا دین ہے۔ ساتویں اور آٹھویں مقالات میں حالیؔ اور بابا بلھےؔ شاہ کے کلام کی روشنی میں سماجی اصلاح اور انسان سازی کے پہلو کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس شمارے کا نواں مقالہ “تحديات الدعوية فى زمن النبوة فى العهد المكي، صورها فى العصر الحاضر ومعالجتها فى ضوء المنهج النبوي” کے عنوان سے مزیّن ہے۔ یقینا یہ مقالہ اربابِ دعوت و ارشاد کے سامنے حضور اکرمﷺ کی سیرت و کردار سے ایسے نمونے پیش کرتا ہے جن کی پیروی میں وہ اہلِ دنیا تک اسلام کا پیغام حکیمانہ طریقے سے پہنچا سکتے ہیں۔اس شمارے کا دسواں مقالہ The Relationship of Social Behavior with Suicidal Ideation کے عنوان سے مزین ہے جس میں خود کشی اور خود کش حملات کے نفسیاتی اسباب تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یقینا یہ مقالہ دہشت گردی کے سدّباب کی راہ میں پہلا قدم ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں امن و امان قائم کرنے والے اداروں اور شخصیات کو کلیدی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح اِس ملک کے اقتصادی مسائل کے حل کے حوالے سے جو کہ بذات خود بے امنی اور دہشت گردی کا ایک عمدہ سبب ہیں، سہ ماہی نور معرفت کے موجودہ شمارے کا گیارہواں مقالہ Values and Well-being in Pakistanکے عنوان سے شامل اشاعت ہے۔ یہ مقالہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عوام کی اقتصادی فلاح و بہبود میں الٰہی اقتصادیات کی تاثیر کے بارے میں بحث کرتا اور عوامی فلاح و بہبود کے الٰہی معیار متعارف کرواتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ علمی، تحقیقی سہ ماہی مجلہ نور معرفت کا یہ شمارے علمی حلقوں میں بہترین پذیرائی حاصل کرے گا اور ہماری دینی، سماجی مشکلات کے حلّ میں عملی اقدامات تجویز کرے گا۔ ان شاء اللہ!