تحریر و تحقیق

اپنے اہداف کے حصول کےلئے  “نمت”  کی تگ و دو کا دائرہ کار محض تعلیمی،تحقیقی میدان میں فعالیت میں منحصر ہے۔ لہذا ایسی  تصنیفات و تالیفات کی ترویج  جو محقق علمائے کرام اور دانشوروں کے رشحات قلم سے تدوین پائی ہوں، “نمت” کی بنیادی پالیسی ہے۔اپنے اہداف کے حصول کےلئے ہمفکر  محققین کی تربیت بھی “نمت”   کی پالیسی شمار ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں پاکستانی قوم کا ہر فرد اور امت مسلمہ کا ہر طبقہ  اس ادارے کا مخاطب ہے، وہاں دینی مدارس کے اساتذہ، محققین، دینی اسکالرز، کالجز، یونیورسٹیز کے طلباءو طالبات، پروفیسر حضرات،  اہل قلم اور دانشور ہمارے خاص مخاطب شمار ہوتے ہیں۔

تحقیق کے میدان میں “نمت”  کا منہج بڑا واضح ہے۔ ہمارے منابع میں  قرآن کریم سرفہرست  ہے۔ اس کے بعد ہم  سنّت  نبوی کے اُس طریق پر اعتماد کرتے ہیں جو أئمہ اہل بیت اطہارعلیہم السلام کا طریق ہے۔ دینی منابع سے دینی تعلیمات کے اخذ و استخراج میں ہماری روش بھی بڑی روشن ہے۔ہم مکتب تشیع کی اُس علمی تحقیقی روش کے علمبردار ہیں جو دین اسلام کے مذکورہ بنیادی منابع میں تتبع، تفحص  اور اجتہاد کی بنیادوں پر استوار ہے۔جہاں تک “نمت”کی کارکردگی کا تعلق ہے تو اب تک یہ ادارہ  مختلف موضوعات پر 13 کتابیں اور سہ ماہی مجلہ “نور معرفت” کے 27 شمارے (تقریباً 260 علمی، تحقیقی مقالات) پیش کر چکا ہے۔اس کے علاوہ، یہ ادارہ اب تک 7 سالانہ سیمینارز کا انعقاد بھی کر چکا ہے اور ادارے کی ویب سائٹ بھی قابل استفادہ ہے۔

یہ ادارہ اس وقت ایک کمرے میں، نہ ہونے کے برابر وسائل کی موجودگی میں کام کر رہا ہے اور ان شاءاللہ  کام کرتا رہے گا۔ تاہم اِس ادارے کو اپنے تحقیقاتی منصوبے جاری رکھنے کےلئے علماء اور اہل قلم احباب کے قلمی اور فکری تعاون کے ساتھ ساتھ ایک مستقل آفس، کم از کم  5/6 افراد پر مشتمل دفتری عملے، تحقیقاتی وسائل  اور ایک ڈیجیٹل لائبریری کی اشدّ ضرورت ہے ۔لہذا ہم تمام علم دوست احباب سے اس کارِ خیر میں تعاون کی دعوت الی الخیر دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے کرم فرماؤں کو اس ادارے کے لئے بہتر سے بہتر وسائل فراہم کرنے کے توفیق عطا فرمائے! (آمین!)