حکمت عملی

جہاں تک “نمت” کی پالیسیوں  (Policies)کا تعلق ہے تو پاکستان کے قومی نظریہ (نظریۂ توحید) کو اجاگر کرنا اور پاکستانی قوم کے اندر یکجہتی اور وحدت کا  شعور بیدار کرنا، اس ادارے  کی اساسی پالیسی ہے۔  ہم ملکی سالمیت اور مملکت خداداد پاکستان میں اسلامی تہذیب کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں۔

“نمت”  کی پالیسی  یہ ہے کہ اسلام کی حقیقی تعلیمات کی ترویج کے ذریعے اس قوم میں پائی جانے والی بیمار دینی سوچ کا معالجہ اور فکری پسماندگی کا خاتمہ کیا جائے تاکہ یہاں اسلامی تہذیب حاکم ہو سکے۔ “نمت” اپنی تحقیقات پیش کرتے وقت ملکی سالمیت، قومی یکجہتی اور اتحاد امت کو مدّنظر رکھنے کے ساتھ ساتھ  اپنے اہداف کے حصول کےلئے اجتماعی کوششوں پر ایمان رکھتا ہے۔ ہم مختلف اسلامی فرقوں اور مذاہب کے درمیان بین المسالک ہماہنگی، تعمیری ڈائیلاگ اور درک متقابل کے قائل ہیں۔

اپنے اہداف کے حصول کےلئے  “نمت”  کی تگ و دو کا دائرہ کار محض تعلیمی،تحقیقی میدان میں فعالیت میں منحصر ہے۔لہذا ایسی  تصنیفات و تالیفات کی ترویج  جو محقق علمائے کرام اور دانشوروں کے رشحات قلم سے تدوین پائی ہوں، “نمت” کی بنیادی پالیسی ہے۔اپنے اہداف کے حصول کےلئے ہمفکر  محققین کی تربیت بھی “نمت”   کی پالیسی شمار ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں پاکستانی قوم کا ہر فرد اور امت مسلمہ کا ہر طبقہ  اس ادارے کا مخاطب ہے، وہاں دینی مدارس کے اساتذہ، محققین، دینی اسکالرز، کالجز، یونیورسٹیز کے طلباءو طالبات، پروفیسر حضرات،  اہل قلم اور دانشور ہمارے خاص مخاطب شمار ہوتے ہیں۔